دل کی دہلیز پر
زندگی بعض اوقات ہمیں ایسے موڑ پر لا کھڑی کرتی ہے جہاں ہم نے کبھی جانے کا سوچا بھی نہیں ہوتا۔ محبت بھی تو ایک ایسا ہی خوبصورت حادثہ ہے جو انسان کی پوری کائنات کو بدل کر رکھ دیتا ہے۔ یہ کہانی بھی دو ایسے دلوں کی ہے جو ایک دوسرے سے بالکل انجان تھے، لیکن قسمت نے ان کے درمیان محبت کا ایک ایسا خوبصورت رشتہ قائم کر دیا جسے وقت بھی کبھی مٹا نہ سکا۔
عاصم اور علیزے: دو مختلف راستے
عاصم شہر کا ایک معروف اور سنجیدہ مزاج آرکیٹیکٹ تھا، جس کی زندگی صرف نقشوں، عمارتوں اور کام کے گرد گھومتی تھی۔ وہ جذبات سے دور اور حقیقت پسندی پر یقین رکھنے والا انسان تھا۔ دوسری طرف علیزے تھی، جو زندگی کی چھوٹی چھوٹی خوشیوں میں مسکرانا جانتی تھی۔ وہ مصوری (Painting) کی شوقین تھی اور کائنات کے ہر رنگ کو اپنے کینوس پر بکھیرنا چاہتی تھی۔
ان دونوں کی ملاقات ایک لائبریری میں ہوئی۔ عاصم وہاں تاریخ کی ایک پرانی کتاب ڈھونڈ رہا تھا، اور علیزے پہلے ہی اس کتاب کو ہاتھ میں لیے اس کے صفحات پلٹ رہی تھی۔
"معذرت، کیا میں یہ کتاب دیکھ سکتا ہوں؟ مجھے اپنے ایک پروجیکٹ کے لیے اس کی اشد ضرورت ہے،" عاصم نے انتہائی شائستگی سے پوچھا۔
علیزے نے نظریں اٹھا کر عاصم کو دیکھا۔ عاصم کی آنکھوں میں ایک عجیب سی سنجیدگی اور التجا تھی۔ علیزے نے مسکرا کر کتاب عاصم کی طرف بڑھا دی، "جی بالکل، آپ لے سکتے ہیں۔ میں تو بس اس کے پرانے ڈیزائن دیکھ رہی تھی۔"
وہ عاصم کی زندگی میں علیزے کی پہلی جھلک تھی، جس نے عاصم کے دل کے کسی کونے میں ایک ہلکی سی دستک دی۔
ملاقاتوں کا سلسلہ اور بدلتے رنگ
اس پہلی ملاقات کے بعد، نہ جانے کیوں عاصم اور علیزے کا بار بار آمنا سامنا ہونے لگا۔ کبھی اسی لائبریری میں، تو کبھی شہر کے کسی چھوٹے سے کافی شاپ میں۔ رفتہ رفتہ ان کی رسمی علیک سلیک گہری گفتگو میں بدلنے لگی۔
عاصم جو کبھی کسی سے فالتو بات نہیں کرتا تھا، اب علیزے کے ساتھ گھنٹوں بیٹھ کر اس کی مصوری اور اس کے خوابوں کی باتیں سنتا تھا۔ علیزے جب بولتی تھی، تو عاصم کو لگتا تھا کہ زندگی میں نقشوں اور عمارتوں کے علاوہ بھی ایک خوبصورت دنیا ہے، جو رنگوں اور خوشبوؤں سے سجی ہے۔
"عاصم! تم کبھی اپنی زندگی کے کینوس پر کوئی رنگ کیوں نہیں بھرتے؟ تمہاری زندگی اتنی بے رنگ کیوں ہے؟" ایک دن کافی کی چسکیاں لیتے ہوئے علیزے نے پوچھا۔
عاصم نے گہرا سانس لیا اور علیزے کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا، "پہلے میری زندگی واقعی بے رنگ تھی علیزے، لیکن اب مجھے لگتا ہے کہ کوئی میری زندگی میں خاموشی سے رنگ بھر رہا ہے۔"
علیزے نے عاصم کی بات کا مطلب سمجھ کر شرماتے ہوئے اپنی نظریں جھکا لیں۔ وہ لمحہ ان دونوں کے درمیان ایک ان کہے اقرار کا لمحہ تھا۔
ایک کٹھن موڑ
محبت جتنی خوبصورت ہوتی ہے، اپنے ساتھ اتنے ہی امتحانات بھی لے کر آتی ہے۔ علیزے کے والد کا اچانک دوسرے شہر تبادلہ ہو گیا، اور اس کے ساتھ ہی علیزے کی شادی کی باتیں بھی اس کے خاندان میں شروع ہو گئیں۔ جب علیزے نے یہ بات عاصم کو بتائی، تو عاصم کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی۔
وہ عاصم جو ہمیشہ اپنے جذبات کو چھپا کر رکھتا تھا، اس دن ٹوٹ گیا۔ اسے احساس ہوا کہ علیزے کے بغیر اس کی زندگی دوبارہ اسی اندھیرے اور بے رنگ دنیا میں لوٹ جائے گی جہاں سے وہ نکل چکا تھا۔
"علیزے، تم مجھے چھوڑ کر نہیں جا سکتیں۔ میں نے کبھی زندگی سے کچھ نہیں مانگا، لیکن آج میں تمہیں مانگنا چاہتا ہوں،" عاصم نے علیزے کا ہاتھ تھامتے ہوئے جذباتی انداز میں کہا۔
علیزے کی آنکھوں میں بھی آنسو تھے، "عاصم، میں بھی تمہارے بغیر جینے کا تصور نہیں کر سکتی، لیکن میں اپنے والدین کے فیصلے کے خلاف بھی نہیں جا سکتی۔ اگر ہماری محبت سچی ہے، تو تمہیں میرے لیے کھڑا ہونا پڑے گا۔"
محبت کی جیت
عاصم نے ہمت نہیں ہاری۔ اس نے فیصلہ کیا کہ وہ روایتی عاشقوں کی طرح ہاتھ پر ہاتھ دھرے نہیں بیٹھے گا۔ وہ علیزے کے شہر گیا اور سیدھا اس کے والد سے ملاقات کی۔ عاصم نے انتہائی احترام، سچائی اور سنجیدگی سے علیزے کے والد کے سامنے اپنے دل کی بات رکھی۔ اس نے اپنی کامیابی، اپنے مستقبل کے ارادے اور علیزے کے لیے اپنی سچی محبت کا اظہار کیا۔
علیزے کے والد عاصم کی شخصیت، اس کی سچائی اور اس کے پختہ ارادے سے بے حد متاثر ہوئے۔ انہوں نے دیکھا کہ عاصم ان کی بیٹی کو وہ تمام خوشیاں دے سکتا ہے جس کی وہ حقدار ہے۔
کچھ مہینوں کی آزمائش اور صبر کے بعد، آخر کار وہ دن آ ہی گیا جب عاصم اور علیزے ہمیشہ کے لیے ایک دوسرے کے ہو گئے۔ علیزے نے عاصم کی زندگی کے کینوس کو محبت کے ایسے لازوال رنگوں سے بھر دیا جو کبھی مدہم نہیں ہو سکتے تھے۔




